ابنا: قاسم جمال سلیمان نے کہا کہ یہ رپورٹ تحقیقات کے ابتدائي نتائج کو بیان کرتی ہے اور جونہی تحقیقات مکمل ہوئیں تو وہ شام کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے پیش کر دی جائيں گی۔ انہوں نے شام کے دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی رپورٹ علاقے میں موجود عینی شاہدین کے مشاہدات اور جائے وقوعہ پر موجود شواہد اور لاشوں کے جائزے کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
گزشتہ جمعہ کے روز شام کے علاقے الحولہ میں دہشت گردی کے ایک انتہائی ہولناک واقعہ میں سو سے زائد افراد کو قتل کر دیا گيا کہ جن میں تقریبا تیس بچے تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق تقریبا چھ سو سے آٹھ سو کے درمیان مسلح افراد نے نماز جمعہ کے بعد الحولہ کے ایک علاقے میں اجتماع کیا اور ساتھ ہی جدید ترین ہتھیاروں سے جن میں مارٹر گولے مشین گنیں اور راکٹ لانچر شامل تھے، پولیس کی پانچ چیک پوسٹوں پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک گروہ نے الحولہ میں لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا۔
خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ قاسم جمال سلیمان نے شام کے دشمنوں کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے غلط قرار دیا کہ شامی فوج نے اس علاقے پر توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں گولہ باری یا مرنے والوں کے جسموں پر گولہ باری کے نتیجے میں گھروں کے ملبے اور گردوغبار اور گولوں کے ٹکڑوں کے نشانات نہیں ملے ہیں۔ قتل ہونے والے افراد کو قریب سے فائرنگ کر کے یاچاقوؤں اور خنجروں کے وار سے قتل کیا گیا ہے۔
اس خصوصی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکام اس قتل عام کی شفاف تحقیقات کر رہے ہیں اور دشمنوں کے پروپیگنڈے کو ناکام بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔
الحولہ میں دہشت گردی کا ہولناک واقعہ ایک دلخراش واقعہ ہے کہ جس نے ہر انسان کے دل کو رنجیدہ کر دیا ہے اور شامی حکام نے اس ہولناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے گی اور اس واقعہ کی پوری تندہی کے ساتھ چوبیس گھنٹے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ شامی حکومت اپنے شہریوں کی سلامتی کے بارے میں کتنی فکر مند ہے۔ جبکہ مغربی ممالک اور شام میں ان کے پٹھو اور دہشت گرد عناصر شوروغل اور پروپیگنڈا کر کے اس واقعہ کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مغربی ممالک اور شام میں ان کے پٹھو اور دہشت گرد عناصر اس بات کو جانتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات سے گزشتہ ایک سال کے دوران شام میں ان کا تخریبی کردار زیادہ کھل کر سامنے آ جائے گا اس بنا پر وہ مختلف طریقوں سے اس ہولناک واقعہ کی جامع تحقیقات کو ہرممکن طریقے سے ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور شرپسند عناصر شام کے خلاف اپنی مخاصمانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے اس ہولناک واقعہ کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں اور دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد ان کی طرف سے شروع کی جانے والی وسیع پیمانے پر نفسیاتی جنگ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے مغربی حکومتوں کے پروپیگنڈے اور دباؤ کے زیراثر ان کے شام مخالف اقدامات کے راستے میں قدم بڑھا رہے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ابھی تک شام کے بارے میں کوئی مثبت اور تعمیری کردار ادا نہیں کیا ہے۔بہرحال الحولہ کے ہولناک واقعہ نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا ہے کہ شامی قوم کے دشمن اس کے خلاف دہشت گردی کے ارتکاب میں کسی بھی حدود و قیود کے قائل نہیں ہیں اور ایسے حالات میں مغربی ممالک شام میں دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کر کے عملی طور پر شامی عوام کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔
شام کے حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شام کی حکومت اور عوام اپنے ملک میں دہشت گردوں کی وحشیانہ کارروائیوں اور ان کے حامیوں کی سازشوں سے مرعوب نہیں ہوں گے اور ان کے مقابل اسقامت و پائیداری اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے موجودہ سخت اور دشوار حالات سے اپنے ملک کو نکال لیں گے۔....... /169